MOJ E SUKHAN

موج نسیم صبح نہ جوش نمو سے تھا

موج نسیم صبح نہ جوش نمو سے تھا
جو پھول سرخ رو تھا خزاں کے لہو سے تھا

تیرے سکوت نے اسے ویران کر دیا
دل باغ باغ تھا تو تری گفتگو سے تھا

اب دل کے رہ گزار میں وہ چاندنی کہاں
اپنا بھی ربط و ضبط کسی ماہ رو سے تھا

مدت ہوئی کہ دل کا وہ گلشن اجڑ گیا
شاداب جو ترے نفس مشکبو سے تھا

خواب و خیال ہیں وہ نشاط آفرینیاں
رقص بہار دل میں تری آرزو سے تھا

سوئے ادب کہوں کہ اسے بے تکلفی
راغبؔ بجائے آپ مخاطب وہ تو سے تھا

راغب مرادآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم