MOJ E SUKHAN

اس کا لہجہ کتاب جیسا ہے

اس کا لہجہ کتاب جیسا ہے
اور وہ خود گلاب جیسا ہے

دھوپ ہو چاندنی ہو بارش ہو
ایک چہرہ کہ خواب جیسا ہے

بے ہنر شہرتوں کے جنگل میں
سنگ بھی آفتاب جیسا ہے

بھول جاؤ گے خال و خد اپنے
آئنہ بھی سراب جیسا ہے

وصل کے رنگ بھی بدلتے تھے
ہجر بھی انقلاب جیسا ہے

یاد رکھنا بھی تجھ کو سہل نہ تھا
بھولنا بھی عذاب جیسا ہے

بے ستارہ ہے آسماں تجھ بن
اور سمندر سراب جیسا ہے

جاذب قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم