MOJ E SUKHAN

شکستہ عکس تھا وہ یا غبار صحرا تھا

شکستہ عکس تھا وہ یا غبار صحرا تھا
وہ میں نہیں تھا جو خود اپنے گھر میں رہتا تھا

عجیب شرط سفر تھی مرے لئے کہ مجھے
سیاہ دھوپ میں روشن چراغ رکھنا تھا

فصیل سنگ سے مجھ کو اتارنے آیا
وہ اک ستارہ جو میں نے کبھی نہ دیکھا تھا

نہ جانے کون سے موسم میں جی رہا تھا میں
کہ میری پیاس تھی میری نہ میرا دریا تھا

شجر کی چھاؤں سے باہر ہے رزق طائر کا
وہ ساحلوں پہ نہ ٹھہرا کبھی جو پیاسا تھا

کسے پکار رہا تھا مرا ادھوراپن
میں گرم ریت پہ تازہ گلاب رکھتا تھا

ہزار کم سخنی درمیاں رہی پھر بھی
وہ مجھ سے آن ملا تھا تو رنگ برسا تھا

میں بجھ گیا تو مرے جسم و جاں کھلے مجھ پر
چراغ اور تھا کوئی جو مجھ میں جلتا تھا

وہ اپنے گھر میں اجالا نہ کر سکا جاذبؔ
تمام رات جو سورج کے خواب رکھتا تھا

جاذب قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم