MOJ E SUKHAN

میسر دیدۂ بینا نہیں ہے

میسر دیدۂ بینا نہیں ہے
وگرنہ آئنے میں کیا نہیں ہے

جسے سوچا اسے چاہا نہیں ہے
جسے چاہا اسے سوچا نہیں ہے

ہر اک شے قید ہے وحدت میں اپنی
ہمارا عکس بھی ہم سا نہیں ہے

اکائی بخش دیتا ہے بدن کو
اندھیرا روشنی جیسا نہیں ہے

اسے ادراک دوعالم نہ ہوگا
اگر شائستۂ دنیا نہیں ہے

سرابوں کا سفر ہے رازؔ اب تک
تسلسل خواب کا ٹوٹا نہیں ہے

رفیع الدین راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم