MOJ E SUKHAN

ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کو

ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کو
غم اٹھانے کا بھی باقی نہیں یارا ہم کو

دردِ فرقت سے ترے ضعف ہے ایسا ہم کو
خواب میں ترے دشوار ہے آنا ہم کو

جوشِ وحشت میں ہو کیا ہم کو بھلا فکرِ لباس
بس کفایت ہے جنوں دامنِ صحرا ہم کو

رہبری کی دہنِ یار کی جانب خط نے
خضر نے چشمۂ حیواں یہ دکھایا ہم کو

دل گرا اس کے زنخداں میں فریب خط سے
چاہ خس پوش تھا اے وائے نہ سوجھا ہم کو

واہ کاہیدگیِ جسم بھی کیا کام آئی
بزم میں تھے پہ رقیبوں نے نہ دیکھا ہم کو

قالبِ جسم میں جان آگئی گویا شبلی
معجزہ فکر نے اپنی یہ دکھایا ہم کو

(علامہ شبلی نعمانی)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم