MOJ E SUKHAN

تھا تعلق جس کا میری ذات سے

تھا تعلق جس کا میری ذات سے
چھٹ گیا ھے اس کا دامن ہاتھ سے

اے ستارو تم نہ چھیڑو اس طرح
تم تو واقف ہو مرے حالات سے

وہ تو اپنی بات کہہ کر چل دیے
رو رہی ہیں میری آنکھیں رات سے

گر ذرا بھی ضبطِ کا دامن چھٹا
بات بگڑے گی وہیں جذبات سے

بجھ نہ جائیں عشق کے روشن دٸے
جل رہے ہیں حسن کی خیرات سے

آرزو خاموش ہوجا ورنہ اب
بات بڑھ جائے گی تیری بات سے

رئیسہ خمار آرزو

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم