MOJ E SUKHAN

امیدِ کرم کی ہے ادا، میری خطا میں

امیدِ کرم کی ہے ادا، میری خطا میں
یہ بات نکلتی ہے مری لغزشِ پا میں

سمجھو تو غنیمت ہے، مرا گریۂ خونیں
یہ رنگ ہے پھولوں میں، نہ یہ بات حنا میں

جھک جاتے ہیں سجدے میں سر اور پھر نہیں اٹھتے
کیا سحر ہے کافر! ترے نقشِ کفِ پا میں

وہ جانِ محبت ہیں، وہ ایمانِ محبت
جو ان کے اشارے ہیں، محبت کی ادا میں

پاتا ہوں کچھ آثارِ تمنا ابھی فانی
کھوئی ہوئی دنیا ہے مری، دل کی فضا میں ​

فانی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم