MOJ E SUKHAN

کس کو ہوگا ترے آنے کا پتہ میرے بعد

کس کو ہوگا ترے آنے کا پتہ میرے بعد
کون سن پائے گا لمحوں کی صدا میرے بعد

جس سے یادوں کے شبستان مہک اٹھتے تھے
اسی خوشبو کو ترستی ہے صبا میرے بعد

میں تو اک رقص تھا کچھ رنگ بھرے ذروں کا
راز یہ اہل زمانہ پہ کھلا میرے بعد

بام و در چیختے ہیں رینگتی تنہائی میں
شہر میں خاک اڑاتی ہے ہوا میرے بعد

حال دل کس سے کہے کس سے لپٹ کر روئے
شہر در شہر بھٹکتی ہے گھٹا میرے بعد

کوئی سنتا نہیں ویران پڑے ہیں کمرے
سر پٹختی ہے کواڑوں سے ہوا میرے بعد

شامؔ کے سنگ سے ہی چاندنی شب پھوٹے گی
در بدر پھیلتی جائے گی ضیا میرے بعد

محمود شام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم