MOJ E SUKHAN

مدتوں بعد وہ گلیاں وہ جھروکے دیکھے

مدتوں بعد وہ گلیاں وہ جھروکے دیکھے
جسم کی راکھ سے اٹھتے ہوئے شعلے دیکھے

دل میں در آئیں گئی ساعتیں خوشبو بن کر
صدیوں کی نیند سے پھر جاگتے لمحے دیکھے

رنگ برساتی وہی صبح وہی بھیگتی شام
وہی احساس میں ڈوبے ہوئے سائے دیکھے

ایک اک موڑ ملے بچھڑے خیالوں کے ہجوم
سونے دروازوں میں پھر چاند سے چہرے دیکھے

ایک اک آنکھ پہ لمحوں کا فسوں طاری ہے
کون اس وقت کی دیوار سے آگے دیکھے

تہ میں بستے ہیں چمکتے ہوئے رنگوں کے نگر
کوئی اس گھور اندھیرے میں اتر کے دیکھے

شامؔ جب توڑ لیا اس سے تھا جو بھی رشتہ
اپنے اظہار کے پھر کتنے ہی رستے دیکھے

محمود شام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم