MOJ E SUKHAN

اس کے ہونے کی خبر شہر میں دل نے پائی

اس کے ہونے کی خبر شہر میں دل نے پائی
کوئی ساعت کی بھی فرصت نہیں ملنے پائی

ہاتھ پہ رکھوں ترے نقش ابھر آتے ہیں
کیا صفت دیکھ تو اس شہر کی گل نے پائی

عشق نے مجھ کو جلا ڈالا ہے شعلہ بن کر
میں ردا درد کی سوزن سے نہ سلنے پائی

ہم کو تنہائی نے توڑا کیا ریزہ ریزہ
زخم دل ہجر کی بارش تو نہ جھلنے پائی

تو فقط آئنہ دیوار پہ آویزاں ہے
تجھ میں رنگت مرے چہرے کی نہ کھلنے پائی

اپنی آنکھوں میں لیے پھرتے ہیں دنیا والے
کیا فضیلت مرے رخسار کے تل نے پائی

زلزلے آئے گرے لاکھ شہاب ثاقب
پر زمیں مرکز و محور سے نہ ہلنے پائی

ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم