MOJ E SUKHAN

ترا وجود نظر کی تلاش میں ہے ابھی

ترا وجود نظر کی تلاش میں ہے ابھی
یہ خاک اپنے شرر کی تلاش میں ہے ابھی

پہنچ ہی جائے گا منزل پہ کارواں اپنا
اگرچہ رختِ سفر کی تلاش میں ہے ابھی

افق سے ڈھونڈ کے لائی تھی آرزو جس کو
وہ آفتاب سحر کی تلاش میں ہے ابھی

تری نوا میں کمالِ ہنر تو ہے ، پھر بھی
ذرا سے خونِ جگر کی تلاش میں ہے ابھی

سمجھ ہی لے گا حقیقت سے آشنا ہو کر
زمانہ فوقِ بشر کی تلاش میں ہے ابھی

حضورِ عشق میںآئی تو ہے خرد ، لیکن
وہاں بھی نفع و ضرر کی تلاش میں ہے ابھی

مرا غزال سوادِ ختن میں آ پہنچا
سنا ہے اپنے ہی گھر کی تلاش میں ہے ابھی​

جاوید احمد غامدی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم