متن خالی ہوا اور قرطاس پر حاشیے رہ گئے
ہائے افسوس دن آپ کے بعد بس نام کے رہ گئے
چند اجڑے ہوئے لمس دیوار و در میں سلگتے رہے
چند مسلے ہوئے پھول ٹیبل پہ مسلے ہوئے رہ گئے
روح کی رونقیں زندگی کے بدن سے نکلتی گئیں
ان شکستہ لبوں پہ فقط کھوکھلے قہقہے رہ گئے
ناتوانا اُمنگیں مناجات کا دل دُکھاتی رہیں
بے محابا صداؤں سے حلقوم اٹے کے اٹے رہ گئے
رات پہروں مرے قریہ ء خواب کا دل دکھاتی رہی
نیند کے ذائقے میری آنکھوں میں دم توڑتے رہ گئے
پیڑ پودوں پہ کُھل کر برستی رہی بے بہا چاندنی
نیم تاریک کمرے میں ہم تھے پڑے سو پڑے رہ گئے