اگرچہ میں خط جادہ پہ اک گرد سفر ہوں
کھٹکتا ہوں مگر پھر بھی کہ منزل کی خبر ہوں
یہ موج خوں ہے سیرابیٔ دل کا اک اشارہ
سو اک خاک نمو رفتہ پہ ہی محو سفر ہوں
یہ عمر خاک پیما اک تمنا سے بھی کم ہے
سو کتنی خواہشوں سے میں ابھی تک بے خبر ہوں
کھلے ہیں رنگ امکانات آئندہ کے مجھ پر
نرالی میری خوشبو ہے میں مٹی کا شجر ہوں
جمال ساعت صد رنگ کو میں شعر کر دوں
میں کب سے اس جنوں انگیز کے زیر اثر ہوں
تہ سطر تمنا دیکھ لوں دل کا تڑپنا
زیادہ تو نہیں اتنا تو میں صاحب نظر ہوں
جاوید احمد