MOJ E SUKHAN

دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤگے کیا

دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤگے کیا
ایک دن گھر نہیں جاؤ گے تو مر جاؤ گے کیا

پیڑ نے چاند کو آغوش میں لے رکھا ہے
میں تمھیں روکنا چاہوں تو ٹہھر جاؤگے کیا

یہ زمستانِ تعلق یہ ہوائے قربت
آگ اوڑھو گے نہیں یونہی ٹھٹھر جاؤگے

یہ تکلم بھری آنکھیں، یہ ترنّم بھرے ہونٹ
تم اسی حالتِ رسوائی میں گھر جاؤگے کیا

لوٹ آؤگے مرے پاس پرندے کی طرح
مری آواز کی سرحد سے گزر جاؤگے کیا

چھوڑ کر ناؤ میں تنہا مجھے عاصم تم بھی
کسی گمنام جزیرے پہ اُتر جاؤگے کیا

لیاقت علی عاصم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم