MOJ E SUKHAN

خزاں سے پیشتر سارا چمن برباد ہوتا ہے

خزاں سے پیشتر سارا چمن برباد ہوتا ہے
غضب ہوتا ہے جب خود باغباں صیاد ہوتا ہے

تجھے اس پر گمان نغمۂ صیاد ہوتا ہے
قفس میں نالہ کش مرغ گلستاں زاد ہوتا ہے

خوشی کے بعد اک تو ہی نہیں ہے مبتلائے غم
یوں ہی اکثر جہاں میں اے دل ناشاد، ہوتا ہے

روا رکھتا ہے وہ بیداد پہلے اپنی فطرت پر
جو انساں دوسرے پر مائل بیداد ہوتا ہے

جو کرتا ہے نثار نوع انساں اپنی ہستی کو
وہ انساں افتخار عالم ایجاد ہوتا ہے

مرے اشعار کی توصیف ہوتی ہے مرے ہوتے
نہیں معلوم میرے بعد کیا ارشاد ہوتا ہے

نہ کر محرومؔ تو فکر سخن اب فکر عقبیٰ کر
نوا پرواز بزم شعر میں آزاد ہوتا ہے

تلوک چند محروم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم