MOJ E SUKHAN

جب سچے رشتے توڑو گے

Jab sachay Rishtay Tooro Gay

غزل

جب سچے رشتے توڑو گے
پھر کس سے ناطہ جوڑو گے

جو لوگ سمندر جیسے ہیں
رخ کیسے اُن کا موڑو گے

جو خون میں رچ کے بہتا ہے
اس درد کو کیسے اوڑھو گے

ہر خواہش پتھر جیسی ہے
تم کب تک پتھر پھوڑو گے

ہر سانس نئی اک دنیا ہے
تم کون سی دنیا چھوڑو گے

جو وقت کا دھارا ہے ساربؔ
تم کیسے اس کو موڑو گے

رشید سارب

Rasheed Sarib

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم