Jab sachay Rishtay Tooro Gay
غزل
جب سچے رشتے توڑو گے
پھر کس سے ناطہ جوڑو گے
جو لوگ سمندر جیسے ہیں
رخ کیسے اُن کا موڑو گے
جو خون میں رچ کے بہتا ہے
اس درد کو کیسے اوڑھو گے
ہر خواہش پتھر جیسی ہے
تم کب تک پتھر پھوڑو گے
ہر سانس نئی اک دنیا ہے
تم کون سی دنیا چھوڑو گے
جو وقت کا دھارا ہے ساربؔ
تم کیسے اس کو موڑو گے
رشید سارب
Rasheed Sarib