MOJ E SUKHAN

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا
وہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا

کیوں مجھ سے نہ کی اس نے سر بزم کوئی بات
میں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا

ہاں حرف تسلی کے لیے تھا میں پریشاں
پہلو میں مرے دل تھا کہستاں تو نہیں تھا

کیوں راستہ دیکھا کیا اس کا میں سر شام
بے درد کا مجھ سے کوئی پیماں تو نہیں تھا

جلوہ تھا ترا آگ میں ہر لحظہ ہویدا
ورنہ مجھے جل مرنے کا ارماں تو نہیں تھا

تھا دل بھی کبھی شہر تمنا سے مماثل
یہ قریہ ہمیشہ سے بیاباں تو نہیں تھا

طوفان الم کیوں مجھے ساحل پہ اتارا
میں شور تلاطم سے ہراساں تو نہیں تھا

رکھا تھا چھپا کر جسے الفاظ میں میں نے
پردے میں سخن کے بھی وہ عریاں تو نہیں تھا

عرش صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم