MOJ E SUKHAN

نہ چہرہ ہی بدلتا ہے نہ وہ تیور بدلتا ہے

نہ چہرہ ہی بدلتا ہے نہ وہ تیور بدلتا ہے
وہ ظالم صرف اپنے ہاتھ کا پتھر بدلتا ہے

کئی تبدیلیاں ہوتی ہیں انسانوں کی بستی میں
پرندہ کوئی دیکھا ہے جو اپنا گھر بدلتا ہے

جو ہم نے اپنی آنکھیں پھینک دی ہیں اس کے قدموں پہ
سو اپنی آنکھیں ہر اک گام پر دلبر بدلتا ہے

چمک اٹھتے ہیں آنسو میری پلکوں کے کناروں پر
پھر اس کے بعد اچانک خواب کا منظر بدلتا ہے

میں جب بھی پھول اس کی یاد کے گلشن سے چنتی ہوں
تو بیناؔ کرب میرا رنگ کا پیکر بدلتا ہے

بینا گوئندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم