MOJ E SUKHAN

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا
فسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا

حریم ناز میں کیا بات تھی جو راز رہی
وہ حرف کیا تھا جو بار دگر کہا نہ گیا

یہ حادثہ بھی عجب ہے کہ تیرے غم کے سوا
کسی بھی غم کو غم معتبر کہا نہ گیا

نفس نفس میں تھا احساس خانہ ویرانی
خرابۂ غم ہستی کو گھر کہا نہ گیا

تلاش کرتا ہوں ایمائے التفات ابھی
وہ کیا نظر تھی کہ جس کو نظر کہا نہ گیا

جنوں نے فکر و نظر کو وہ رفعتیں بخشیں
خرد کو ہم سے کبھی دیدہ ور کہا نہ گیا

نہ کوئی شور نہ غوغا نہ ہاؤ ہو نہ خروش
خزاں کو موسم دیرنہ گر کہا نہ گیا

دل اضطراب گزارش کا محشرستاں تھا
کسی کے سامنے کچھ بھی مگر کہا نہ گیا

یزدانی جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم