MOJ E SUKHAN

سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا

سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا
ذرا سی دھوپ بھی اس سائباں میں رکھ دینا

تجھے ہوس ہو جو مجھ کو ہدف بنانے کی
مجھے بھی تیر کی صورت کماں میں رکھ دینا

شکست کھائے ہوئے حوصلوں کا لشکر ہوں
اٹھا کے مجھ کو صف دشمناں میں رکھ دینا

جدید نسلوں کی خاطر یہ ورثہ کافی ہے
مرے یقیں کو حصار گماں میں رکھ دینا

یہ موج تاکہ سفینے کو گرم رو رکھے
کچھ آگ خیمۂ آب رواں میں رکھ دینا

بہت طویل ہے کالے سمندروں کا سفر
مجھے ہوا کی جگہ بادباں میں رکھ دینا

میں اپنے ذمے کسی کا حساب کیوں رکھوں
جو نفع ہے اسے جیب زیاں میں رکھ دینا

فضا ابنِ فیضی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم