MOJ E SUKHAN

رات جو موج ہوا نے گل سے دل کی بات کہی

رات جو موج ہوا نے گل سے دل کی بات کہی
اک اک برگ چمن نے کیسی کیسی بات کہی

آنکھیں رنگ برنگ سجے رستوں سرشار ہوئیں
دل کی خلش نے منظر منظر ایک ہی بات کہی

ہر اظہار کی تہ میں ایک ہی معنی پنہا تھے
اپنی طرف سے سب نے اپنی اپنی بات کہی

آج بھی حرف و بیاں کے سب پیمانے حیراں ہیں
کیسے غزل نے دو سطروں میں پوری بات کہی

سیدھے سادے سے لفظوں میں کہنا مشکل تھا
اس لیے تو ایسی آڑی ترچھی بات کہی

تم کیوں اپنی مرضی کے مفہوم نکالو ہو
اتنا ہی مطلب ہے ہمارا جتنی بات کہی

تم بھی تو مضمون تراشی میں مصروف رہے
تم نے بھی تو عالؔی کم کم اصلی بات کہی

جلیل عالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم