MOJ E SUKHAN

بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو

بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو
یہ موم دل ہے ہمارا اسے جدا نہ کرو

نہ ٹھنڈی سانسیں بھرو دور مے میں ہم نفساں
یہ آگ بھڑکے گی مے خانے میں ہوا نہ کرو

ہم آنکھیں بند کریں پھر دکھاؤ رنگینی
جو چور پکڑا ہے تم شوخئ حنا نہ کرو

چکور ہم کو بنایا دکھا کے عریانی
یہ کھیل چاندنی میں آ کے مہ لقا نہ کرو

غزل میں شعر بہت نرم ہو گئے اخترؔ
یہ کس زبان میں کہتے ہو بد مزا نہ کرو

واجد علی شاہ اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم