MOJ E SUKHAN

کیا ہجر میں جی نڈھال کرنا

کیا ہجر میں جی نڈھال کرنا
کچھ ذکر شب وصال کرنا

جو کچھ بھی گزر رہی ہے سہہ لو
کچھ اس سے نہ عرض حال کرنا

غم اس کے عطا کئے ہوئے ہیں
غم کا نہ کبھی ملال کرنا

میں تم سے بچھڑ کے جی سکوں گا
ایسا نہ کبھی خیال کرنا

جس طرح جیے ہیں ہم جہاں میں
پیش ایسی کوئی مثال کرنا

میں جس کا جواب نہ دے پاؤں
ایسا بھی کوئی سوال کرنا

تم ساتھ رہے تو ہم نے والیؔ
سیکھا ہی نہیں کمال کرنا

والی آسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم