MOJ E SUKHAN

کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگا

کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگا
کچھ خموشی کا بھی سبب ہوگا

میں بھی ہوں بزم میں رقیب بھی ہے
آخری فیصلہ تو اب ہوگا

آئیں مے خانہ میں کبھی واعظ
حور بھی ہوگی اور سب ہوگا

بول اے میرے دل کی تاریکی
تیرا سورج طلوع کب ہوگا

سنتا ہوگا صدائیں اس دل کی
شام تنہائی میں وہ جب ہوگا

کب چھٹیں گی یہ بدلیاں غم کی
صاف مطلع یہ جوشؔ کب ہوگا

اے جی جوش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم