MOJ E SUKHAN

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے
انگور کی مے کے دھوکے میں زہراب کا پینا مشکل ہے

جب ناخن وحشت چلتے تھے روکے سے کسی کے رک نہ سکے
اک چاک دل انسانیت سیتے ہیں تو سینا مشکل ہے

اک صبر کے گھونٹ سے مٹ جاتی سب تشنہ لبوں کی تشنہ لبی
کم ظرفیٔ دنیا کے صدقے یہ گھونٹ بھی پینا مشکل ہے

وہ شعلہ نہیں جو بجھ جائے آندھی کے ایک ہی جھونکے سے
بجھنے کا سلیقہ آساں ہے جلنے کا قرینا مشکل ہے

کرنے کو رفو کر ہی لیں گے دنیا والے سب زخم اپنے
جو زخم دل انساں پہ لگا اس زخم کا سینا مشکل ہے

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ماحول کے خونیں منظر سے
اس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے

ملنے کو ملے گا بالآخر اے عرشؔ سکون ساحل بھی
طوفان حوادث سے لیکن بچ جائے سفینا مشکل ہے

جوش ملسیانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم