MOJ E SUKHAN

کوزہ گر دیکھ اگر چاک پہ آنا ہے مجھے

کوزہ گر دیکھ اگر چاک پہ آنا ہے مجھے
پھر ترے ہاتھ سے ہر چاک سلانا ہے مجھے

باندھ رکھے ہیں مرے پاؤں میں گھنگرو کس نے
اپنی سر تال پہ اب کس نے نچانا ہے مجھے

رات بھر دیکھتا آیا ہوں چراغوں کا دھواں
صبح عاشور سے اب آنکھ ملانا ہے مجھے

ہاتھ اٹھے نہ کوئی اب کے دعا کی خاطر
ایک دیوار پس دار بنانا ہے مجھے

سر بچے یا نہ بچے تیرے زیاں خانے میں
اپنی دستار بہر طور بچانا ہے مجھے

چھوڑ آیا ہوں در دل پہ میں آنکھیں اپنی
اب ذرا جائے جو کہتا تھا کہ جانا ہے مجھے

ذوالفقار نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم