MOJ E SUKHAN

جہت کو بے جہتی کے ہنر نے چھین لیا

جہت کو بے جہتی کے ہنر نے چھین لیا
مری نگاہ کو میرے ہی سر نے چھین لیا

ہے کس کے دست کرم میں مہار ناقۂ جاں
سفر کا لطف غم ہم سفر نے چھین لیا

میں اپنی روح کے ذرے سمیٹتا کیوں کر
یہ خاک وہ تھی جسے کوزہ گر نے چھین لیا

بھٹک رہے ہیں جوانی کے نارسا لمحات
بہت سے گھر تھے جنہیں ایک گھر نے چھین لیا

بقول غالبؔ دانا گزر ہی جاتی یہ عمر
مگر اسے بھی ترے رہ گزر نے چھین لیا

شکارگاہ شکاری کے خوں سے رنگیں ہے
زمیں کا رزق کسی جانور نے چھین لیا

سفر کی روح تھا وہ ذوق جستجو طالبؔ
جسے چراغ سر رہ گزر نے چھین لیا

علامہ طالب جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم