MOJ E SUKHAN

جنوں میں دامن دل گرچہ تار تار ہوا

جنوں میں دامن دل گرچہ تار تار ہوا
مگر یہ جشن سر کوچۂ بہار ہوا

ہر ایک سجدے میں دل کو ترا خیال آیا
یہ اک گناہ عبادت میں بار بار ہوا

سمیٹ لی ہیں محبت نے ساری پروازیں
دل و دماغ میں کیسا یہ انتشار ہوا

نہیں بجھایا ہواؤں نے پہلی بار چراغ
یہ سانحہ تو مرے ساتھ بار بار ہوا

کسی کے واسطے تصویر انتظار تھے ہم
وہ آ گیا پہ کہاں ختم انتظار ہوا

اندھیری شب کے مقدر میں اک سویرا تھا
یہ راز مجھ پہ دم صبح آشکار ہوا

جو تجھ میں ڈوب کے دیکھا تو پا لیا خود کو
علیناؔ یوں مرا پھر مجھ پہ اختیار ہوا

علینا عطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم