MOJ E SUKHAN

مستحق وہ لذت غم کا نہیں

مستحق وہ لذت غم کا نہیں
جس نے خود اپنا لہو چکھا نہیں

اس شجر کے سائے میں بیٹھا ہوں میں
جس کی شاخوں پر کوئی پتا نہیں

کون دیتا ہے در دل پر صدا
کہہ دو میں بھی اب یہاں رہتا نہیں

بن رہے ہیں سطح دل پر دائرے
تم نے تو پتھر کوئی پھینکا نہیں

انگلیاں کانٹوں سے زخمی ہو گئیں
ہاتھ پھولوں تک ابھی پہنچا نہیں

ایک خوشبو ساتھ جو پل بھر رہی
عمر بھر پیچھا مرا چھوڑا نہیں

وہ مقام فکر ہے مرا علیؔ
جس بلندی تک کوئی پہنچا نہیں

علی احمد جلیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم