MOJ E SUKHAN

تجھے ہر دم پکاروں گی

تجھے ہر دم پکاروں گی
ذرا بے چین سی ہو کر
ذرا سی دیر کو رو کر
اندھیروں میں اجالوں میں
فقط تیرے خیالوں میں
چلی آٶں گی چپکے سے
چرا لاٶں گی چپکے سے
تیرے سپنوں کے ہیرے کو
تری یادوں کے ہیرے کو
میں پھر تجھ سے نباہوں گی
تجھے میں خوب چاہوں گی
تجھے میں قید کر لوں گی
تجھے باہوں میں بھر لوں گی
تجھے باہوں میں بھر کے میں
ذرا سا قید کر کے میں
ترا صدقہ اتاروں گی
تجھے ہر دم پکاروں گی
میں دکھ سارے ہی جھیلوں گی
میں تجھ سے کھیل کھیلوں گی
کبھی چھپ جاٶں گی دل میں
کبھی آنکھوں کے اس تل میں
کبھی دھڑکن چرا لوں گی
تجھے غم سے بچا لوں گی
ترے جذبوں میں ڈھل ڈھل کر
تعی چاہت میں پل پل کر
میں پردے سب اٹھاٶں گی
تجھے جلوے دکھاٶں گی
بہک جاٶں گی سانسوں میں
تری بے چین باہوں میں
یہی میں کھیل کھیلوں گی
میں دکھ سارے ہی جھیلوں گی
نہ جیتوں گی نہ ہاروں گی
تجھے ہر دم پکاروں گی

مدیحہ شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم