MOJ E SUKHAN

تمام عمر رواں کا مال حیرت ہے

تمام عمر رواں کا مال حیرت ہے
جواب جس کا نہیں وہ سوال حیرت ہے

دکان چشم یہاں بے مثال حیرت ہے
اس آئنے کا سراسر کمال حیرت ہے

یہ زندگی تو ترے ساتھ ساتھ ختم ہوئی
جو مجھ میں باقی ہے وہ لا زوال حیرت ہے

وہ خواب ایسے تھے تعبیر ان کی تھی ہی نہیں
رمیدہ ہجر گریزاں وصال حیرت ہے

ہوئی طلسم زدہ جب یہ آئنے نے کہا
یہاں تو سارے کا سارا جمال حیرت ہے

عدم وجود عدم اف یہ سلسلے کیسے
میں لٹ گئی ہوں مگر مالا مال حیرت ہے

یہ کائنات ہے حیران اپنے ہونے پہ
قدم قدم پہ یہاں محو حال حیرت ہے

تسنیم عابدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم