MOJ E SUKHAN

بیٹھے ہیں ایسے زلف میں کلیاں سنوار کے

بیٹھے ہیں ایسے زلف میں کلیاں سنوار کے
آئے ہوں جیسے ان کے لئے دن بہار کے

اے تیز رو زمانے تجھے کچھ خبر بھی ہے
لمحے صدی بنے ہیں شب انتظار کے

باقی رہے نہ گلشن و گل اور نہ آشیاں
لیکن ہیں چار سو وہی چرچے بہار کے

اے رہ روان گور غریباں خموش ہو
سوئے ہیں سونے والے شب غم گزار کے

اے سالکان اہل جنوں اور تیز گام
اٹھ اٹھ کے دیکھتے ہیں بگولے غبار کے

میرے خدا شکستہ سفینے کی خیر ہو
ہر موج دیکھتی ہے مجھے سر ابھار کے

ساغر خیامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم