MOJ E SUKHAN

زندگی کیا ہر قدم پر اک نئی دیوار ہے

زندگی کیا ہر قدم پر اک نئی دیوار ہے
تیرگی دیوار تھی اب روشنی دیوار ہے

کیوں بھٹکتی پھر رہے ہیں آج ارباب خرد
کیا جنوں کے راستے میں آگہی دیوار ہے

بچ نہیں سکتی تغیر کے اثر سے کوئی شے
پہلے سنتی تھی مگر اب دیکھتی دیوار ہے

ہم تو وابستہ ہیں ایسے دور سے جس دور میں
آدمی کے راستے میں آدمی دیوار ہے

جذبۂ جہد و عمل سے زندگی کوہ گراں
بے عمل ہو زندگی تو ریت کی دیوار ہے

آج اپنے دشمنوں سے کھل کے لڑ سکتا نہیں
دشمنی کے راستے میں دوستی دیوار ہے

روح کیوں مضطر نہ ہو جامیؔ حریم جسم میں
جس طرف بھی دیکھتی ہے آہنی دیوار ہے

معراج جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم