MOJ E SUKHAN

تو غزل بن کے اتر بات مکمل ہو جائے

تو غزل بن کے اتر بات مکمل ہو جائے
منتظر دل کی مناجات مکمل ہو جائے

عمر بھر ملتے رہے پھر بھی نہ ملنے پائے
اس طرح مل کہ ملاقات مکمل ہو جائے

دن میں بکھرا ہوں بہت رات سمیٹے گی مجھے
تو بھی آ جا تو مری ذات مکمل ہو جائے

نیند بن کر مری آنکھوں سے مرے خوں میں اتر
رت جگا ختم ہو اور رات مکمل ہو جائے

میں سراپا ہوں دعا تو مرا مقصود دعا
بات یوں کر کہ مری بات مکمل ہو جائے

ابر آنکھوں سے اٹھے ہیں ترا دامن مل جائے
حکم ہو تیرا تو برسات مکمل ہو جائے

ترے سینے سے مرے سینے میں آیات اتریں
سورۂ کشف و کرامات مکمل ہو جائے

تیرے لب مہر لگا دیں تو یہ قصہ ہو تمام
دفتر طول شکایات مکمل ہو جائے

تجھ کو پائے تو وحیدؔ اپنے خدا کو پا لے
کاوش معرفت ذات مکمل ہو جائے

وحید اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم