MOJ E SUKHAN

جس کو مانا تھا خدا خاک کا پیکر نکلا

جس کو مانا تھا خدا خاک کا پیکر نکلا
ہاتھ آیا جو یقیں وہم سراسر نکلا

اک سفر دشت خرابی سے سرابوں تک ہے
آنکھ کھولی تو جہاں خواب کا منظر نکلا

کل جہاں ظلم نے کاٹی تھیں سروں کی فصلیں
نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلا

خشک آنکھوں سے اٹھی موج تو دنیا ڈوبی
ہم جسے سمجھے تھے صحرا وہ سمندر نکلا

زیر پا اب نہ زمیں ہے نہ فلک ہے سر پر
سیل تخلیق بھی گرداب کا منظر نکلا

گم ہیں جبریل و نبی گم ہیں کتاب و ایماں
آسماں خود بھی خلاؤں کا سمندر نکلا

عرش پر آج اترتی ہے زمینوں کی وحی
کرۂ خاک ستاروں سے منور نکلا

ہر پیمبر سے صحیفے کا تقاضا نہ ہوا
حق کا یہ قرض بھی نکلا تو ہمیں پر نکلا

گونج اٹھا نغمۂ کن دشت تمنا میں وحیدؔ
پائے وحشت حد امکاں سے جو باہر نکلا

وحید اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم