MOJ E SUKHAN

بیٹھا نہیں ہوں سایۂ دیوار دیکھ کر

بیٹھا نہیں ہوں سایۂ دیوار دیکھ کر
ٹھہرا ہوا ہوں وقت کی رفتار دیکھ کر

ہم مشربی کی شرم گوارا نہ ہو سکی
خود چھوڑ دی ہے شیخ کو مے خوار دیکھ کر

کیا جانے بحر عشق میں کتنے ہوئے ہیں غرق
ساحل سے سطح آب کو ہموار دیکھ کر

ہیں آج تک نگاہ میں حالانکہ آج تک
یکھا نہ پھر کبھی انہیں اک بار دیکھ کر

بسملؔ تم آج روتے ہو انجام عشق کو
ہم کل سمجھ گئے تھے کچھ آثار دیکھ کر

بسمل سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم