MOJ E SUKHAN

بجھتے ہوئے ضمیر کو شعلہ انائیں دے

بجھتے ہوئے ضمیر کو شعلہ انائیں دے
اس جاں بلب مریض کو تازہ ہوائیں دے

ان وسوسوں کے اندھے کنوئیں کی جگہ مجھے
اے ذہنِ شر پسند یقیں کی ضیائیں دے

پتھر نہیں تو خود کو گرا سطحِ آب پر
ان گنگ منظروں کو سمندر صدائیں دے

جن کی شکم میں صرف اُجالے ہی پل سکیں
یا رب نئے بشر کو وہ مہتاب مائیں دے

جس جس کے پاس جو نہیں کر وہ عطا اسے
مُلّا کو روح کی مجھے تن کی غذائیں دے

استادِ وقت سے مری اتنا ہے التجا
کمسن سماعتوں کو نہ بوڑھی صدائیں دے

جگ مگ کرے گا شایدِ معنی کا انگ انگ
سپراؔ وجودِ شعر کو شیشہ قبائیں دے
تنویر سپرا​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم