MOJ E SUKHAN

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم
اپنے ہی آپ میں اک حشر اٹھائے گئے ہم

زندگی دیکھ کہ احسان ترے کتنے ہیں
دل کے ہر داغ کو آئینہ بنائے گئے ہم

پھر وہی شام وہی درد وہی اپنا جنوں
جانے کیا یاد تھی وہ جس کو بھلائے گئے ہم

کن دریچوں کے چراغوں سے ہمیں نسبت تھی
کہ ابھی جل نہیں پائے کہ بجھائے گئے ہم

عمر بھر حادثے ہی کرتے رہے استقبال
وقت ایسا تھا کہ سینے سے لگائے گئے ہم

راستے دوڑے چلے جاتے ہیں کن سمتوں کو
دھوپ میں جلتے رہے سائے بچھائے گئے ہم

دشت در دشت بکھرتے چلے جاتے ہیں شناسؔ
جانے کس عالم وحشت میں اٹھائے گئے ہم

فہیم شناس کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم