MOJ E SUKHAN

تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے

تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے
میں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہے

سچ کہا ہے کہ بہ امید ہے دنیا قائم
دل حسرت زدہ بھی تیرا تمنائی ہے

دل کی فریاد جو سنتا ہوں تو رو دیتا ہوں
چوٹ کمبخت نے کچھ ایسی ہی تو کھائی ہے

بے نیازی کی ادائیں وہ دکھاتے ہیں بہت
خوئے تسلیم مری ان کو پسند آئی ہے

زلف برہم مژہ برگشتہ جبیں چین آلود
میری بگڑی ہوئی تقدیر کی بن آئی ہے

ادب آموز بلا کا ہے تغافل ان کا
شوق پر حوصلہ نے خوب سزا پائی ہے

کہے دیتا ہوں کسی اور کی جانب تو نہ دیکھ
کیا یہ کچھ کم ہے کہ وحشتؔ ترا سودائی ہے

وحشت رضا علی کلکتوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم