MOJ E SUKHAN

نیند میں گنگنا رہا ہوں میں

نیند میں گنگنا رہا ہوں میں
خواب کی دھن بنا رہا ہوں میں

ایک مدت سے باغ دنیا کا
اپنے دل میں لگا رہا ہوں میں

کیا بتاؤں تمہیں وہ شہر تھا کیا
جس کی آب و ہوا رہا ہوں میں

اب تجھے میرا نام یاد نہیں
جب کہ تیرا پتا رہا ہوں میں

آج کل تو کسی سدا کی طرح
اپنے اندر سے آ رہا ہوں میں

ایسا مردہ تھا میں کہ جینے کے
خوف میں مبتلا رہا ہوں میں

اکبر معصوم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم