MOJ E SUKHAN

نظر کو پھر کوئی چہرہ دکھایا جا رہا ہے

نظر کو پھر کوئی چہرہ دکھایا جا رہا ہے
یہ تم خود ہو کہ مجھ کو آزمایا جا رہا ہے

بہت آسودگی سے روز و شب کٹنے لگے ہیں
مجھے معلوم ہے مجھ کو گنوایا جا رہا ہے

سر مژگاں بگولے آ کے واپس جا رہے ہیں
عجب طوفان سینے سے اٹھایا جا رہا ہے

مرا غم ہے اگر کچھ مختلف تو اس بنا پر
مرے غم کو ہنسی میں کیوں اڑایا جا رہا ہے

بدن کس طور شامل تھا مرے کار جنوں میں
مرے دھوکے میں اس کو کیوں مٹایا جا رہا ہے

وہ دیوار انا جس نے مجھے تنہا کیا تھا
اسی دیوار کو مجھ میں گرایا جا رہا ہے

مری خوشیوں میں تیری اس خوشی کو کیا کہوں میں
چراغ آرزو تجھ کو بجھایا جا رہا ہے

خرد کی سادگی دیکھو کہ ظاہر حالتوں سے
مری وحشت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے

ابھی اے باد وحشت اس طرف کا رخ نہ کرنا
یہاں مجھ کو بکھرنے سے بچایا جا رہا ہے

عرفان ستار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم