MOJ E SUKHAN

مری چشم تماشا اب جہاں ہے

مری چشم تماشا اب جہاں ہے
تجلی کارواں در کارواں ہے

یقیں ہے آخری منزل گماں کی
یقیں کی آخری منزل گماں ہے

وہ مجھ سے دور تو اتنے نہیں ہیں
فقط اک بے یقینی درمیاں ہے

یہ راز اہل فغاں پر فاش کر دو
خموشی بھی اک انداز فغاں ہے

یہ میر کارواں سے کوئی کہہ دے
کہ میں ہوں اور تلاش کارواں ہے

جگن ناتھ آزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم