MOJ E SUKHAN

دن جا چکے

دب کے رہنے کے دن جا چکے
کچھ نہ کہنے کے دن جا چکے
وار کرنے کے دن آ گئے
وار سہنے کے دن جا چکے

اب تو قدریں پگھلنے لگیں
اور معیار گلنے لگے

جو جواہر لہو سے ڈھلے
مٹھیوں سے پھسلنے لگے

جن کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے
اب وہی ہاتھ ملنے لگے

اب تو سورج اترنے لگا
اور سائے تو ڈھلنے لگے

اب تو پتھر بھی مڑنے لگا
اب تو پربت بھی چلنے لگے

گرم صحراؤں کی کوکھ سے
سرد چشمے ابلنے لگے

جو دلوں میں چھپ تھے دیے
اب تو آنکھوں میں جلنے لگے

وقت پیچھے کہیں رہ گیا
لوگ آگے نکلنے لگے

اوپر اوپر کا کیا تذکرہ
اندر اندر بدلنے لگے

دب کے رہنے کے دن جا چکے
کچھ نہ کہنے کے دن جا چکے
وار کرنے کے دن آ گئے
وار سہنے کے دن جا چکے
٭٭٭
احمد ندیم قاسمی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم