MOJ E SUKHAN

فرصت آگہی بھی دی لذت بے خودی بھی دی

فرصت آگہی بھی دی لذت بے خودی بھی دی
موت کے ساتھ ساتھ ہی آپ نے زندگی بھی دی

سوز دروں عطا کیا جرأت عاشقی بھی دی
ان کی نگاہ ناز نے غم ہی نہیں خوشی بھی دی

اس نے نیاز و ناز کے سایہ ورق الٹ دئے
دست خلیل بھی دیا صنعت آذری بھی دی

پھر بھی مری نگاہ میں دونوں جہاں سیاہ نہیں
میری شب فراق کو چاند نے روشنی بھی دی

آپ نے اک نگاہ میں سب کو نہال کر دیا
پھول کو مسکراہٹیں موج کو بے کلی بھی دی

چھین لو مجھ سے دوستو طاقت عرض مدعا
اس نے مزاج یار کو دعوت برہمی بھی دی

دام تعینات میں دیدہ و دل الجھ گئے
سوز یقیں کے ساتھ ساتھ لذت کافری بھی دی

ماہرؔ دل فگار پر آپ کی یہ نوازشیں
فطرت عاشقی بھی دی دولت شاعری بھی دی

ماہر القادعری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم