MOJ E SUKHAN

ہے مرہم کے ہوتے ہوے تن دریدہ

ہے مرہم کے ہوتے ہوے تن دریدہ
گدائے وفا ہوں سو ہوں سر بریدہ

توجہ تری میرے زخموں کا مرہم
تری خوش نگاہی مگر ہے چنیدہ

ہیں لفظوں کے میرے تو چہرے بھی زخمی
مگر تیرا مرہم بھی ہے بر گزیدہ

کہ مرہم کے جادو سے مر، ہم نہ جائیں
مریض ے وفا ہوں ،ہیں سانسیں بھی چیدہ

جو صحرا میں چھالوں سے رستا لہو ہے
وہ لکھے گا میری وفا کا قصیدہ

حوادث نے توڑا ، جفاوں نے مارا
کمر اب جوانی میں بھی ہے خمیدہ

جہاں پر زمیں ہے اگاتی محبت
ہو قلب و جگر کا علاقہ چنیدہ

خبر کس نے دی تتلیوں کو چمن میں
پڑے جابجا ہیں گل ے شب گزیدہ

گل نسرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم