MOJ E SUKHAN

یوں اشک برستے ہیں مرے دیدۂ تر سے

یوں اشک برستے ہیں مرے دیدۂ تر سے
جس طرح سے ساون کی گھٹا جھوم کے برسے

ہاں اشک ندامت جو گرے دیدۂ تر سے
وہ دامن عصیاں پہ نظر آئے گہر سے

ماحول تو بدلا ہے مری جہد نے اکثر
ہاں میں نہیں بدلا کبھی ماحول کے ڈر سے

دنیا نہ کہیں مجھ کو نگاہوں سے گرا دے
اب اتنا گرا دو نہ مجھے اپنی نظر سے

دیکھے جو کوئی سادہ مزاجی تو یہ سمجھے
واقف ہی نہیں آپ کسی عیب و ہنر سے

جس راہ میں گزری ہے مرے سر پہ قیامت
سو بار تو گزرا ہوں اسی راہ گزر سے

اس وقت جو گزری ہے نہ پوچھو اسے وصفیؔ
ٹکرائی ہے جب ان کی نظر میری نظر سے

عبدالرحمن خان بہرائچی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم