MOJ E SUKHAN

کوئی نذر غم حالات نہ ہونے پائے

کوئی نذر غم حالات نہ ہونے پائے
اور ہر بات ہو یہ بات نہ ہونے پائے

جو بھی صورت ہے عنایت ہے کرم ہے ان کا
رائیگاں ان کی یہ سوغات نہ ہونے پائے

ان کی تصویر سے ہر لمحہ رہے راز و نیاز
منتشر شان خیالات نہ ہونے پائے

سخت دشوار ہے پابندی آئین وفا
بات تو جب ہے تجھے مات نہ ہونے پائے

جان دے دیجئے آداب محبت کے لئے
دیکھیے خامیٔ جذبات نہ ہونے پائے

بزم میں ان کا کوئی ذکر جو آ جاتا ہے
حکم ہوتا ہے مری بات نہ ہونے پائے

حسن کردار سے ہستی کو سجا لو وصفیؔ
زندگی نذر خرافات نہ ہونے پائے

عبدالرحمان خان بہرائچی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم