MOJ E SUKHAN

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے
ہم ساتھ کے قبیلوں میں ضم کر دیے گئے

پہلے نصاب عقل ہوا ہم سے انتساب
پھر یوں ہوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے

پہلے لہولہان کیا ہم کو شہر نے
پھر پیرہن ہمارے علم کر دیے گئے

پہلے ہی کم تھی قریۂ جاناں میں روشنی
اور اس پہ کچھ چراغ بھی کم کر دیے گئے

اس دور نا شناس میں ہم سے عرب نژاد
لب کھولنے لگے تو عجم کر دیے گئے

عالم تاب تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم