MOJ E SUKHAN

حصار مقتل جاں میں لہو لہو میں تھا

حصار مقتل جاں میں لہو لہو میں تھا
رسن رسن مری وحشت گلو گلو میں تھا

جو رہ گیا نگہ سوزن مشیت سے
قبائے زیست کا وہ چاک بے رفو میں تھا

زمانہ ہنستا رہا میری خود کلامی پر
ترے خیال سے مصروف گفتگو میں تھا

تھا آئنے میں شکست غرور یکتائی
کہ اپنے عکس کے پردے میں ہو بہ ہو میں تھا

تو اپنی ذات کے ہر پیچ و خم سے پوچھ کے دیکھ
قدم قدم مری آہٹ تھی کو بہ کو میں تھا

ہر ایک وادی و کہسار سے گزرتا ہوا
جو آبشار بنا تھا وہ آب جو میں تھا

ختن ختن تھی شلنگ غزال میرے لیے
بدن بدن مرا نشہ سبو سبو میں تھا

تمام عمر کی دیوانگی کے بعد کھلا
میں تیری ذات میں پنہاں تھا اور تو میں تھا

مآل عمر محبت ہے بس یہی تشنہؔ
مری تلاش تھا وہ اس کی جستجو میں تھا

عالم تاب تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم