MOJ E SUKHAN

مجھ کو ساحل کی کہانی نہ سنائیں – جائیں

مجھ کو ساحل کی کہانی نہ سنائیں – جائیں
پہلے طوفان سے کشتی کو بچائیں -جائین

میں دیا ہوں تو مرا کام فقط جلنا ہے
آندھیاں کام کریں اپنا بُجھائیں -جائیں

سر کے بل آئیں گے ہم لوگ ترے کوچے میں
ہم کو دکھلائی اگر اور ادائیں – جائیں

واعظو سچ کی بھی تعلیم ضرور ی ہے بہت
میکدے ساتھ مرے آپ بھی آئیں -جائیں

جان و دل ، چین سکوں سب تو لُٹایا میں نے
اب مجھے اور نہ للہ ستائیں ۔ جائیں

” ایک سجدہ” ہی جو کافی نہیں پیشانی کو
دام پھر آپ تو سجدوں کے بڑھائیں – جائیں

میری تعریف پہ وہ منہ سا ، بنا کر بولے
اسقدر آپ نہ اب ہم کو بنائیں – جائیں

انکی آنکھوں کے مقابل میں سُبو لائے ہو
اپنی اوقات خدارا نہ دکھائیں – جائیں

دل کسی طور عبادت کی طرف جاتا نہیں
سارے معبود یہ مندر سے اٹھاِئیں – جائیں

لیجئے ہوگیا برباد یہ سید زادہ
اور کیا چاہتے ہیں آپ بتائیں – جائیں

میری تربت کے مقدر میں تو ویرانی ہے
آپ بھی خاک پہ کچھ خاک اُڑائیں – جائیں

حسن کا زعم جو دیکھا تو یہ بولے مفتی
ہم نے دیکھا ہیں بہت آپ سے جائیں -جائیں

ابنِ مفتی سید ایاز مفتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم